ایوارڈ سے ادیب بڑا نہیں ہوتاصرف حوصلہ ملتا ہے:عبدالصمد

whatsapp image 2026 04 16 at 6.15.00 pm (1)

شعبہء اردو سی سی ایس یونیورسٹی میں ”ساہتیہ اکادمی کی ادبی سرگرمیاں“موضوع پر آن لائن پرو گرام کا انعقاد

میرٹھ16/اپریل2026ء
بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں ساہتیہ اکادمی دہلی کی طرف سے غلط فہمیاں بھری ہوئی ہیں۔ میں تقریباً35 سال سے اکادمی سے جڑا ہوا ہوں۔ بہت سے ادبا و شعرا اکا دمی سے ناراض بھی ہو تے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں پوری بات کا علم نہیں ہوپاتا۔ ایوارڈ کمیٹی کے انتخاب کا کسی کو پتہ نہیں ہوتا۔ ساہتیہ اکادمی نے مجھے چالیس برس کی عمر میں ایوارڈ سے نوازا اور بعد میں فیلو شپ بھی دی۔ ایوارڈ سے ادیب بڑا نہیں ہوتاصرف حوصلہ ملتا ہے۔ یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملنے پر کوئی بڑا ادیب بن جاتا ہے۔یہ الفاظ تھے معروفکشن نگار عبد الصمد کے جو آیو سا اور شعبہئ اردو کے زیر اہتمام منعقد ”ساہتیہ اکادمی کی ادبی سر گرمیاں“ موضوع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے ادیب ایسے بھی ہے جو واقعی بہت بٖڑے ادیب ہیں لیکن یہ ایوارڈ ان کو نہیں ملا۔دنیا کا کوئی ایوارڈ ایسا نہیں جس میں کنٹوورسی نہ ہو۔ آج کا یہ پروگرام بہت عمدہ رہا۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازمحمد ندیم نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔پروگرام کی سرپرستی معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض معروف ادیب وناقدپروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔مہمانان خصوصی کی حیثیت سے معروف فکشن نگار عبد الصمد اور معروف شاعر چندر بھان خیالؔ اور مہمان ذی وقار کے بطور ڈاکٹر صادقہ نواب سحر نے شر کت فر مائی۔ مقررین کی حیثیت سے لکھنؤ سے ایوسا کی صدر پروفیسر ریشما پروین اور ڈاکٹر ابو ظہیر ربّانی موجود رہے۔ استقبالیہ اور تعارفی کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر الکا وششٹھ نے انجام دیے۔
اس موقع پر معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے موضوع کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ ساہتیہ اکادمی دہلی ایک ایسی اکادمی ہے جو ہندوستان کی تقریباً24زبانوں کو فروغ دینے کا کام کرتی ہے اور کئی طرح کے پروگرام اکادمی کے ذریعے عمل میں آ تے ہیں اور مختلف ادیبوں، دانشوروں کو بلا کر ان کا تعارف اور ان کے خیالات کو ہم تک پہنچانے کا کام کرتی ہے۔
ڈاکٹر ابو ظہیر ربّانی نے کہا کہ سا ہتیہ اکا دمی کی سب سے بٖڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں کسی طرح کا سیاسی دخل نہیں ہوتا۔ چوبیس زبانوں کو یہ اکادمی دیکھتی ہے اور نئے پرانے ادیبوں کی ہمت افزائی کرتی ہے۔ یہ زبان کسی خاص مذہب اور کسی خاص طبقے کی زبان نہیں ہے۔زبان بہت ہی بڑا وسیلہ ہے۔ اپنی مادری زبان کی اہمیت کو سمجھیں۔ اس لیے یہ اکادمی بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کی زبان کا بھی خیال رکھتی ہے۔
ڈاکٹر صادقہ نواب سحر نے کہا کہ میں بڑا فخر محسوس کررہی ہوں کہ آج بڑے بڑے فکشن نگاروں اور ناقدین کے درمیان پروگرام میں شامل ہوں اور کچھ بول رہی ہوں۔ حقیقت میں ساہتیہ اکا دمی کی سر گرمیاں ایسی ہیں جن کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا اور جب مجھے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا تو مجھے خود یقین نہیں ہوا کہ مجھے یہ ایوارڈ مل رہا ہے۔ بہر حال مجھے پروگرام میں مدعو کرنے کے لیے آپ سب کا بے حد شکریہ
چندر بھان خیال نے کہا کہ آپ سب کا شکریہ اداکرتا ہوں کہ آپ نے سا ہتیہ اکادمی پر پروگرام کیا۔ یہ اکا دمی صرف ادیبوں اور شاعروں کو انعامات سے ہی نہیں نوازتی بلکہ ہندوستان کی تقریباً 24زبانوں کی خد مت کررہی ہے اور علاقائی زبانوں پر کام کرنے والے ادیبوں کو بھی یہ اکا دمی سراہتی ہے۔
پروفیسر ریشما پروین نے کہا کہ آج کا یہ پروگرام ریسرچ اسکالر اور طالب علموں کے لیے بہت اہم ہے۔ آج کے مہمانوں کی گفتگو سن کر بہت سی غلط فہمیاں دور ہوئیں۔ اس ادارے کے ذریعے ہماری پذیرائی بھی ہوتی ہے اور دیگر زبانوں کی بھی خدمت ہورہی ہے۔
پرو گرام کے آخر میں اپنی صدارتی تقریر میں پروفیسر صغیر افرا ہیم نے کہا کہ جو لوگ ساہتیہ اکادمی دہلی سے وابستہ ہیں ہم ان کا احترام کرتے ہیں۔ لسانیات کے اعتبار سے بھی بہت سے کام ساہتیہ اکادمی میں ہوتے ہیں۔ ساہتیہ اکادمی دہلی کے آج تین اہم پلر ہمارے ساتھ میں ہیں۔ آج ینگ جنریشن کچھ زیادہ مشغول ہوگئی ہے۔35سال بعد بھی اکادمی میں ادیبوں کی کتابوں پر انعام ملتا ہے۔ یہ اکا دمی کبھی قیمت کا خیال نہیں رکھتی۔ پو ری اردو دنیا میں آپ کا پیپر کہاں سے چھپا اور کہاں شائع ہوا۔ ساہتیہ اکادمی اس بات پر بھی نظر رکھتی ہے۔ عبد الصمد بہت بڑا ادیب ہے جب بھی ان پر گفتگو ہوتی تھی ہم غور سے سنتے تھے،اردو کے لیے، ادب کے لیے جو مقدس پلیٹ فارم ہے اس کے لیے ادیب کو یہ کرنا چاہئے کہ احترام کی وجہ سے جوتے اتر وادیے جاتے ہیں۔ آج ہمارے ساتھ جولوگ جڑے ہیں ان سے ہمیں بڑی تقویت ملی۔
پروگرام سے ڈاکٹرآصف علی، ڈاکٹر شاداب علیم،سیدہ مریم الٰہی،محمد شمشاد،سعید احمد سہارنپوری اور دیگر طلبہ و طالبات جڑے رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *