جدید اردو غزل کے امام ڈاکٹر بشیر بدر کے سانحہ ارتحال پر حرف زار لٹری سوسائٹی علی گڑھ کی تعزیتی نشست

whatsapp image 2026 05 28 at 3.30.37 pm

28؍مئی علی گڑھ: پریس ریلیز
جدید اردو غزل کے منفرد اور مقبول ترین شاعر، ڈاکٹر بشیر بدر کے سانحہ ارتحال پر ادبی دنیا کی معروف تنظیم حرف زار لٹری سوسائٹی، علی گڑھ کے زیرِ اہتمام ایک پروقار اور پرملال تعزیتی نشست کا انعقاد ’خیابانِ ادب‘ علی گڑھ میں کیا گیا۔ اس تعزیتی سیشن کی صدارت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق صدر اور معروف نقاد پروفیسر صغیر افراہیم نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض معروف شاعراور سوسائٹی کے روحِ رواں ڈاکٹر مجیب شہزر نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ نشست کا آغاز ڈاکٹر بشیر بدر کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا سے ہوا۔

نشست میں علی گڑھ کے ممتاز ادبا، شعرا اور دانشوروں نے شرکت کی اور اردو شاعری کے اس عظیم خسارے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ صدارتی خطبے اور تعزیتی بیانات کے اہم اقتباسات درج ذیل ہیں:
whatsapp image 2026 05 30 at 4.34.50 pm

پروفیسر صغیر افراہیم (صدرِ نشست):
’’ڈاکٹر بشیر بدر صرف ایک شاعر نہیں بلکہ ایک عہد کا نام تھے۔ انہوں نے غزل کو روایتی بوجھل پن سے نکال کر عام فہم، شگفتہ اور گداز لہجہ عطا کیا۔ ان کا اسلوب بلا کا ساحرانہ تھا جو قاری اور سامع کے دل میں سیدھا اتر جاتا تھا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ان کا گہرا اور دیرینہ رشتہ رہا، انہوں نے یہاں تعلیم حاصل کی اور تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔ ان کا جانا جدید اردو غزل کے ایک سنہرے باب کا خاتمہ ہے۔ وہ شعر و ادب کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔‘‘
ڈاکٹر اویس جمال شمسی:
’’بشیر بدر صاحب نے اردو غزل کو ایک نیا مزاج اور نئی لغت دی۔ ان کے یہاں جو سہلِ ممتنع ملتا ہے، وہ دورِ حاضر میں کسی دوسرے شاعر کے ہاں مفقود ہے۔ انہوں نے انسانی جذبوں اور عصری سچائیوں کو جس خوبصورتی سے شعر کے قالب میں ڈھالا، وہ انہی کا حصہ تھا۔ ان کا شعری سرمایہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔‘‘
ڈاکٹر خاور خان سرحدی:
’’ڈاکٹر بشیر بدر کی رحلت سے اردو دنیا یتیم ہو گئی ہے۔ وہ غزل کے ایسے جادوگر تھے جنہوں نے الفاظ کو نئی معنویت اور حسن بخشا۔ ان کی شاعری میں جو دردمندی، ہجر و وصال کی دھیمی آنچ اور جمالیاتی رچاؤ تھا، اس نے انہیں عوام اور خواص دونوں کا محبوب شاعر بنایا۔ اردو شعر و ادب میں پیدا ہونے والا یہ خلا صدیوں تک پُر نہیں ہو سکے گا۔‘‘
ڈاکٹر وصی بیگ بلال:
’’بشیر بدر صاحب نے غزل کو کائناتی سچائیوں سے جوڑتے ہوئے اسے ایک نیا سماجی شعور دیا۔ ان کا لہجہ دھیما اور اثر انگیز تھا۔ وہ مشاعروں کی جان اور ادبی محفلوں کے وقار تھے۔ آج ہم ایک ایسے نابغہ روزگار شخص سے محروم ہو گئے ہیں جس نے اردو زبان کو عالمی سطح پر ایک منفرد پہچان دی تھی۔‘‘
عمران خان یوسف زئی:
’’ڈاکٹر بشیر بدر نئی نسل کے شعرا کے لیے ایک استاد اور آئیڈیل کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کا کلام سادگی اور پرکاری کا ایک ایسا امتزاج ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی رحلت صرف ایک فرد کی موت نہیں بلکہ ایک پورے تہذیبی اور ادبی اثاثے کا رخصت ہونا ہے۔‘‘
نشست کے آخر میں ناظمِ محفل ڈاکٹر مجیب شہزر نے تمام شرکا اور مقررین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حرف زار لٹری سوسائٹی بشیر بدر صاحب کی ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مستقبل میں سیمینار کا انعقاد کرے گی۔ نشست کا اختتام اس دعا کے ساتھ ہوا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے لواحقین و تمام محبانِ اردو کو صبرِ جمیل دے۔ (آمین)
منجانب:
میڈیا سیل، حرف زار لٹری سوسائٹی، علی گڑھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *