ڈاکٹر طارق قمر کے نئے شعری مجموعے ” دھوپ چھاؤں کی سرگوشیاں ” سے
فریبِ منصب و دستار سے نکل آیا ،
پھر ایک راستہ انکار سے نکل آیا
میں مطمئن تھا چلو آج آئینہ ٹوٹا ،
مگر یہ عکس تو دیوار سے نکل آیا
تماشا دیکھئے اب بے بسی کا دریا کی ،
اِدھر میں ڈوبا اور اُس پار سے نکل آیا
دُکاں لگائے ہوئے تھے کئ شیوخ و امام ،
نظر بچا کے میں بازار سے نکل آیا
عجیب سانحہ پازیب ٹوٹنے سے ہُوا ،
کہ ایک آنسو بھی جھنکار سے نکل آیا
بہت شدید تھی طارق پکار مٹّی کی ،
بدن لباسِ کلف دار سے نکل آیا
